ڈوبا ہوا ہوں درد کی گہرائیوں میں بھی

جمیل ملک

ڈوبا ہوا ہوں درد کی گہرائیوں میں بھی

جمیل ملک

MORE BYجمیل ملک

    ڈوبا ہوا ہوں درد کی گہرائیوں میں بھی

    میں خندہ زن ہوں کھوکھلی دانائیوں میں بھی

    عریاں ہے سارا شہر چلی یوں ہوس کی لہر

    تجھ کو چھپا رہا ہوں میں تنہائیوں میں بھی

    کیسے تھے لوگ جن کی زبانوں میں نور تھا

    اب تو تمام جھوٹ ہے سچائیوں میں بھی

    اب نیک نامیوں میں بھی کوئی مزا نہیں

    پہلے تو ایک لطف تھا رسوائیوں میں بھی

    وہ دوڑ ہے کسی کو کسی کی خبر نہیں

    اب کتنی غیریت ہے شناسائیوں میں بھی

    رنگین ساعتوں میں کہاں وہ ملاحتیں

    پرچھائیوں کا جال ہے رعنائیوں میں بھی

    ہم جن کے واسطے تھے تماشا بنے ہوئے

    دیکھا تو وہ نہیں تھے تماشائیوں میں بھی

    میں ہی تھا وہ جو اپنے ہی تیشے سے مر گیا

    ہی ہی تھا شہر جبر کے بلوائیوں میں بھی

    کیا دور ہے کہ جس میں صدا بھی سکوت ہے

    تنہائیاں ہیں انجمن آرائیوں میں بھی

    وہ پیار دو کہ جس کی چمک ماند ہی نہ ہو

    ہوتا ہے یہ خلوص تو ہرجائیوں میں بھی

    ساز و صدا کے شور میں گم ہو گیا جمیلؔ

    کس کس کے دل کا درد تھا شہنائیوں میں بھی

    مأخذ :
    • کتاب : naquush (Pg. 252)
    • اشاعت : 1979

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY