ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے بہت

ایلزبتھ کورین مونا

ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے بہت

ایلزبتھ کورین مونا

MORE BYایلزبتھ کورین مونا

    ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے بہت

    رات تاریک سہی ایک ستارا ہے بہت

    درد اٹھتا ہے جگر میں کسی طوفاں کی طرح

    تب تری یادوں کے دامن کا کنارہ ہے بہت

    ظلم جس نے کئے وہ شخص بنا ہے منصف

    ظلم پر ظلم نے مظلوم کو مارا ہے بہت

    راہ دشوار ہے پگ پگ پہ ہیں کانٹے لیکن

    راہ رو کے لئے منزل کا اشارہ ہے بہت

    اس کو پانے کی تمنا ہی رہی جیون بھر

    دور سے ہم نے مسرت کو نہارا ہے بہت

    فاصلے بڑھتے گئے عمر بھی ڈھلتی ہی گئی

    وصل کا خواب لئے وقت گزارا ہے بہت

    ہونٹ خاموش تھے اک آہ بھی ہم بھر نہ سکے

    بارہا دل نے مگر تم کو پکارا ہے بہت

    جھوٹی تعریف سے لگتا ہے بہت ڈر موناؔ

    میٹھی باتوں نے ہی شیشے میں اتارا ہے بہت

    مآخذ :
    • کتاب : Zauq-e-justuju (Pg. 19)
    • Author : Elizabeth Kurian Mona
    • مطبع : Educational Publishing House (2016)
    • اشاعت : 2016

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY