دود آتش کی طرح یاں سے نہ ٹل جاؤں گا

جرأت قلندر بخش

دود آتش کی طرح یاں سے نہ ٹل جاؤں گا

جرأت قلندر بخش

MORE BY جرأت قلندر بخش

    دود آتش کی طرح یاں سے نہ ٹل جاؤں گا

    شمع ساں محفل جاناں ہی میں جل جاؤں گا

    دور سے بھی اسے دیکھوں تو یہ چتون میں کہے

    آ کے دیدے ابھی تلووں تلے مل جاؤں گا

    دل مضطر یہ کہے ہے وہیں لے چل ورنہ

    توڑ چھاتی کے کواڑوں کو نکل جاؤں گا

    میں ہوں خورشید سر کوہ یقیں ہے کہ وہ ماہ

    آئے گا بام پہ تب جب کہ میں ڈھل جاؤں گا

    آج بھی کوئی نہ لے جائے گا واں مجھ کو تو بس

    کل نہیں ہے مجھے میں جی ہی سے کل جاؤں گا

    واں سے اٹھتا ہوں تو کہتا ہے یہ پائے رفتار

    جب زمیں پر تو رکھے گا میں پھسل جاؤں گا

    بہ خدا حسن بتاں کا یہی سب سے ہے کلام

    وہ چھلاوا ہوں کہ تم سب کو میں چھل جاؤں گا

    آ کے برسوں میں وہ مجھ پاس یہ شب کہنے لگے

    یاں ٹھہرنے میں بہت سے ہیں خلل جاؤں گا

    تیغہ قاتل کا کہے ہے کہ دوالی بندو

    موٹھ کی طرح سے تم سب پہ میں چل جاؤں گا

    گو مزاج اس کا یہ بدلا کہ کہے ہے مجھے یوں

    دیکھو تم آئے تو میں گھر سے نکل جاؤں گا

    پر رہا جائے گا کب ہے مری حالت تغییر

    یوں نہ جاؤں گا تو میں بھیس بدل جاؤں گا

    جرأتؔ اشعار جنوں خیز کہہ اب اور کہ میں

    لے کے یہ تربت سودا پہ غزل جاؤں گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY