دور کچھ اہل جنوں کی بے قراری کیجیے

نبیل احمد نبیل

دور کچھ اہل جنوں کی بے قراری کیجیے

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    دور کچھ اہل جنوں کی بے قراری کیجیے

    ہو سکے تو ان کی تھوڑی غم گساری کیجیے

    جن کے بستر سے نہیں جاتی کوئی سلوٹ کبھی

    ان کی آنکھوں میں وفا کے خواب جاری کیجیے

    عشق کی قسمت یہی ہے عشق کا منصب یہی

    جاگیے شب بھر یوں ہی اختر شماری کیجیے

    نوچیے زخم جگر کو آنکھ بھر کر روئیے

    اور کب تک ہجر میں یوں آہ و زاری کیجیے

    بھیجئے کوئی بلاوا کوئی چٹھی بھیجئے

    اپنے ان پردیسیوں سے شہر داری کیجیے

    لوگ ہیں تیار ہجرت کے لیے اس شہر سے

    پھر کوئی تازہ نیا فرمان جاری کیجیے

    پھر کوئی تازہ بپا ہونے کو ہے اک معرکہ

    نہر فرات کربلا کو پھر سے جاری کیجیے

    کام آئے گا نہ کوئی مشکلوں میں دیکھنا

    جس قدر بھی دوستوں سے وضع داری کیجیے

    تشنۂ تکمیل ٹھہرے بات نہ کوئی نبیلؔ

    گفتگو جتنی بھی ہے دل میں وہ ساری کیجیے

    آئے گا کب سانس ورنہ دوسرا تجھ کو نبیلؔ

    دل کے زخموں کی نہ ایسے پردہ داری کیجیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY