دور تک پھیلا سمندر مجھ پہ ساحل ہو گیا

آشفتہ چنگیزی

دور تک پھیلا سمندر مجھ پہ ساحل ہو گیا

آشفتہ چنگیزی

MORE BYآشفتہ چنگیزی

    دور تک پھیلا سمندر مجھ پہ ساحل ہو گیا

    لوٹ کر جانا یہاں سے اور مشکل ہو گیا

    داخلہ ممنوع لکھا تھا فصیل شہر پر

    پڑھ تو میں نے بھی لیا تھا پھر بھی داخل ہو گیا

    خواب ہی بازار میں مل جاتے ہیں تعبیر بھی

    پہلے لوگوں سے سنا تھا آج قائل ہو گیا

    اس ہجوم بے کراں سے بھاگ کر جاتا کہاں

    تم نے روکا تو بہت تھا میں ہی شامل ہو گیا

    پہلے بھی یہ سب مناظر روکتے تھے اس دفعہ

    ایسا کیا دیکھا کہ تجھ سے اور غافل ہو گیا

    ایک موقعہ کیا ملا خوش فہمیاں بڑھنے لگیں

    راستہ اتنا پسند آیا کہ منزل ہو گیا

    اور کیا دیتا بھلا صحرا نوردی کا خراج

    تو بچا تھا اب کے تو بھی نذر محمل ہو گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY