دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھا

آرزو لکھنوی

دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھا

آرزو لکھنوی

MORE BYآرزو لکھنوی

    دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھا

    ان کو بزم ناز تھی اور مجھ کو خلوت خانہ تھا

    کھینچ لایا تھا یہ کس عالم سے کس عالم میں ہوش

    اپنا حال اپنے لیے جیسے کوئی افسانہ تھا

    چھوٹے چھوٹے دو ورق جل جل کے دفتر بن گئے

    درس حسرت دے رہا تھا جو پر پروانہ تھا

    جان کر وارفتہ ان کے چھیڑنے کی دیر تھی

    پھر تو دل اک ہوش میں آیا ہوا دیوانہ تھا

    ضوفشاں ہونے لگا جب دل میں حسن خود نما

    پھر تو کعبہ آرزوؔ کعبہ نہ تھا بت خانہ تھا

    RECITATIONS

    آرزو لکھنوی

    آرزو لکھنوی

    آرزو لکھنوی

    دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھا آرزو لکھنوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY