دوری میں کیوں کہ ہو نہ تمنا حضور کی

قلق میرٹھی

دوری میں کیوں کہ ہو نہ تمنا حضور کی

قلق میرٹھی

MORE BY قلق میرٹھی

    دوری میں کیوں کہ ہو نہ تمنا حضور کی

    منزل کو میری قرب سے نسبت ہے دور کی

    فرقت نے اس کی وصل کی تشویش دور کی

    تسکیں نہیں ہے یوں بھی دل ناصبور کی

    موسیٰ کے سر پہ پاؤں ہے اہل نگاہ کا

    اس کی گلی میں خاک اڑی کوہ طور کی

    کہتا ہے انجمن کو تری خلد مدعی

    اس بوالہوس کے دل میں تمنا ہے حور کی

    واعظ نے میکدے کو جو دیکھا تو جل گیا

    پھیلا گیا چراند شراب طہور کی

    موسیٰ کو کیوں نہ موج تجلی دھکیل دے

    جلوے سے اس کے گل ہوئی مشعل شعور کی

    ارباب وقت جانتے ہیں روزگار نے

    کی سہو سے وفا تو تلافی ضرور کی

    رسوائیوں کا حوصلہ گھٹ گھٹ کے بڑھ گیا

    ساماں ہے خامشی مری شور نشور کی

    میل آسماں کا سوئے زمیں بے سبب نہیں

    زیر قدم جگہ ہے سر پر غرور کی

    اس سے نہ ملیے جس سے ملے دل تمام عمر

    سوجھی ہمیں بھی ہجر میں آخر کو دور کی

    پامال کر رہا ہے سیہ روزیوں کا جوش

    مٹی خراب ہے مرے کلبے میں نور کی

    کیا ایک قرب غیر کا صدمہ نہ پوچھیے

    ہیں دل کے آس پاس بلا دور دور کی

    مضموں مرے اڑائے قلقؔ سب نے اس قدر

    سنتا ہوں میں ترانہ زبانی طیور کی

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY