احساس کا قصہ ہے سنانا تو پڑے گا

ذاکر خان ذاکر

احساس کا قصہ ہے سنانا تو پڑے گا

ذاکر خان ذاکر

MORE BYذاکر خان ذاکر

    احساس کا قصہ ہے سنانا تو پڑے گا

    ہر زخم کو اب پھول بنانا تو پڑے گا

    ممکن ہے مرے شعر میں ہر راز ہو لیکن

    اک راز پس شعر چھپانا تو پڑے گا

    آنکھوں کے جزیروں پہ ہیں نیلم کی قطاریں

    خوابوں کا جنازہ ہے اٹھانا تو پڑے گا

    چہرے پہ کئی چہرے لیے پھرتی ہے دنیا

    اب آئنہ دنیا کو دکھانا تو پڑے گا

    ذہنوں پہ مسلط ہیں سیہ سوچ کے بادل

    ظلمت میں دیا دل کا جلانا تو پڑے گا

    وہ دشمن جاں جان سے پیارا بھی ہمیں ہے

    روٹھے وہ اگر اس کو منانا تو پڑے گا

    رشتوں کا یہی وصف ہے ذاکرؔ کی نظر میں

    کمزور سہی رشتہ نبھانا تو پڑے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY