اہتمام رنگ و بو سے گلستاں پیدا کریں

عروج زیدی بدایونی

اہتمام رنگ و بو سے گلستاں پیدا کریں

عروج زیدی بدایونی

MORE BYعروج زیدی بدایونی

    اہتمام رنگ و بو سے گلستاں پیدا کریں

    آؤ مل جل کر بہار بے خزاں پیدا کریں

    کیوں سکوت بے محل سے داستاں پیدا کریں

    دیدہ و دانستہ اپنے راز داں پیدا کریں

    راس آ سکتا ہے میر کارواں بننے کا خواب

    شرط یہ ہے پہلے اپنا کارواں پیدا کریں

    کار آرائی تو خود ہے حاصل تکمیل کار

    دل میں کیا اندیشۂ سود و زیاں پیدا کریں

    اپنا اعجاز تصور دیکھنے کی چیز ہے

    ہم جو چاہیں تو مکاں میں لا مکاں پیدا کریں

    وقت کو ضد ہی بدل دو رسم عرض مدعا

    دل یہ کہتا ہے کہ ہنگامہ کہاں پیدا کریں

    آپ کی مرضی کا ہے پابند رنگ گلستاں

    آپ چاہیں تو بہار جاوداں پیدا کریں

    روح پر حاوی نہ ہو جائے فضائے سوگوار

    ہم غم دل سے نشاط جاوداں پیدا کریں

    کوشش تعمیر کی تخریب سامانی نہ پوچھ

    آشیاں بردار شاخیں بجلیاں پیدا کریں

    ہاں سکھا دیں رنگ رخ کو آئنہ داری کا فن

    بہر‌ عرض مدعا ہم ترجماں پیدا کریں

    پھر بلاتا توں کے یہ تیور کہاں باقی عروجؔ

    حال دل کہہ کر جواب درمیاں پیدا کریں

    مآخذ :
    • کتاب : Lahje ke Chiraag (Pg. 143)
    • Author : Urooj Zaidi
    • مطبع : Irfan Zaidi, Rampur (1989)
    • اشاعت : 1989

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY