ایک عالم نے جبہ سائی کی

خواجہ محمد وزیر

ایک عالم نے جبہ سائی کی

خواجہ محمد وزیر

MORE BYخواجہ محمد وزیر

    ایک عالم نے جبہ سائی کی

    اے بتو تم نے بھی خدائی کی

    عاشقوں کے لہو کی پیاسی ہیں

    مچھلیاں اس کف حنائی کی

    زلف پر پیچ سے جو دل الجھا

    بیچ میں رخ پڑا صفائی کی

    مرغ بے بال و پر ہوں اے صیاد

    آرزو ہے کسی رہائی کی

    اے جنوں دشت کو چلیں گے ہم

    ہے قسم اس برہنہ پائی کی

    سر جدا ہم نے اپنا کر ڈالا

    آئی جب گفتگو جدائی کی

    پھر گیا یار گھر کے پاس آ کر

    بخت برگشتہ نے برائی کی

    سیکڑوں جامے تجھ پہ پھٹتے ہیں

    دھوم ہے تیری میرزائی کی

    تجھ سے تو ہم کو اے خم ابرو

    تھی نہ امید کج ادائی کی

    کوئی قاتل کی راہ بھولا تھا

    اے اجل تو نے رہنمائی کی

    دل کہیں اور ہم نے اٹکایا

    بے وفاؤں سے بے وفائی کی

    نہ گئی زاہدوں کے پاس کبھی

    دختر رز نے پارسائی کی

    شہر میں جائے گی مری پاپوش

    قدر واں کیا برہنہ پائی کی

    صاف ہے آئنہ تن پر نور

    ہے دلیل اس پہ خود نمائی کی

    کاسۂ ماہ کیوں نہ ہو پر نور

    برسوں اس کوچے کی گدائی کی

    کعبۂ دل میں بھی مقام کیا

    اے بتو تم نے کیا رسائی کی

    خط کے آنے پہ بھی مکدر ہے

    صورت اب کون سی صفائی کی

    بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ

    اب تو صورت نہیں رہائی کی

    کس کے کوچے کی راہ بھولا ہوں

    خضر نے بھی نہ رہنمائی کی

    شاہ کہلائے ہر طرح سے وزیرؔ

    بادشاہی نہ کی گدائی کی

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY