ایک چراغ یہاں میرا ہے ایک دیا وہاں تیرا

محمد اظہار الحق

ایک چراغ یہاں میرا ہے ایک دیا وہاں تیرا

محمد اظہار الحق

MORE BY محمد اظہار الحق

    ایک چراغ یہاں میرا ہے ایک دیا وہاں تیرا

    بیچ میں اقلیمیں پڑتی ہیں پانی اور اندھیرا

    کوئی نہ جانے کون سا لفظ ہے جس سے جی اٹھوں گا

    جس طائر میں جان ہے میری اس کا دور بسیرا

    ساحل پر تو ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا ہے

    شاید کسی جہاز میں بھر کر لائے کوئی سویرا

    بھرا ہوا ہے جانوروں اور سانپوں سے یہ جنگل

    ہجر دکھائی دیتا تھا باہر سے سبز گھنیرا

    دھوپ اور بارش بھیجنے والے میری بھی سن لینا

    تیرے باغ کے گوشے میں اک کچا پھول ہے میرا

    مآخذ:

    • Book: AURAAQ (Pg. 250)
    • Author: Wazir Agha, Sajjad Naqvi
    • مطبع: Auraaq Chauk, Urdu Bazar, Lahore (April, May 1982)
    • اشاعت: April, May 1982

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites