ایک گھر اپنے لیے تیار کرنا ہے مجھے

غلام حسین ساجد

ایک گھر اپنے لیے تیار کرنا ہے مجھے

غلام حسین ساجد

MORE BYغلام حسین ساجد

    ایک گھر اپنے لیے تیار کرنا ہے مجھے

    اور اک بستی کو بھی مسمار کرنا ہے مجھے

    اس اندھیرے میں چھپانا ہے کوئی دشمن مگر

    اس اجالے میں کسی پر وار کرنا ہے مجھے

    ایک ندی کے کنارے پر ٹھہرنے کے لیے

    شام ہونے تک یہ دریا پار کرنا ہے مجھے

    ڈھونڈ لایا ہوں خوشی کی چھاؤں جس کے واسطے

    ایک غم سے بھی اسے دو چار کرنا ہے مجھے

    باندھنی ہے آخری اک چال سے ساری بساط

    اور اس کا داؤ بھی بے کار کرنا ہے مجھے

    کس سمندر میں اترنا ہے پڑاؤ کے لیے

    کس نگر کو اب گلے کا ہار کرنا ہے مجھے

    ایک خواہش ہے جو شاید عمر بھر پوری نہ ہو

    ایک سپنے سے ہمیشہ پیار کرنا ہے مجھے

    ایک جھونکے کو رواں رکھنا ہے صحن باغ میں

    ایک گل کو شامل گفتار کرنا ہے مجھے

    ایک انجانی صدا کی کھوج میں چلتے ہوئے

    ایک مبہم ربط کو دیوار کرنا ہے مجھے

    مآخذ:

    • کتاب : siip-volume-46 (Pg. 56)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY