ایک اک لمحہ گزارا جا رہا ہے ہوش میں

کیف مرادآبادی

ایک اک لمحہ گزارا جا رہا ہے ہوش میں

کیف مرادآبادی

MORE BYکیف مرادآبادی

    ایک اک لمحہ گزارا جا رہا ہے ہوش میں

    اے زہے قسمت جو ہیں طوفان کی آغوش میں

    اب یہ عالم ہے ہمارا بندگی کے جوش میں

    ایک سجدہ بے خودی میں ایک سجدہ ہوش میں

    مصلحت کچھ بھی نہ کہنے دے تو اس کا کیا علاج

    جانے کتنی داستانیں ہیں لب خاموش میں

    اف یہ سیلاب حوادث ہائے یہ طوفان غم

    یوں بھی لاتا ہوگا دیوانے کو کوئی ہوش میں

    ڈر ہے اہل کارواں کی تیزئ رفتار سے

    اپنی منزل بھی نہ کھو بیٹھیں کسی دن جوش میں

    سامنے محشر ہو یا کونین چاہے کچھ بھی ہو

    ان کا دیوانہ تو اب آتا نہیں ہے ہوش میں

    کیفؔ سے پوچھے کوئی تیرے کرم کی وسعتیں

    اس نے دیکھا ہے دو عالم کو تری آغوش میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY