ایک مدت سے سر بام وہ آیا بھی نہیں

فیض الحسن خیال

ایک مدت سے سر بام وہ آیا بھی نہیں

فیض الحسن خیال

MORE BY فیض الحسن خیال

    ایک مدت سے سر بام وہ آیا بھی نہیں

    ہم کو اب حسرت دیدار تمنا بھی نہیں

    جادۂ شوق میں تنہا بھی ہوں تنہا بھی نہیں

    کیا حسیں بات ہے رسوا بھی ہوں رسوا بھی نہیں

    تم جو ناراض ہوئے ہو گئی دنیا برہم

    اب تو گرتی ہوئی دیوار کا سایہ بھی نہیں

    کس کو میں دوت کہوں کس کو میں دشمن جانوں

    سبھی اپنے ہیں یہاں کوئی پرایا بھی نہیں

    آج تک بھی میں پرستش تو کئے جاتا ہوں

    یہ الگ بات کہ میں نے تمہیں دیکھا بھی نہیں

    صبح کی شمعیں لئے پھرتے ہو کیوں دیوانو

    رشتۂ شب تو ابھی خیر سے ٹوٹا بھی نہیں

    تو تخیل کے دریچے میں تھا کھویا کھویا

    پیکر حسن تجھے میں نے جگایا بھی نہیں

    کس طرح غم کو میں تقسیم کروں گا یارو

    قصۂ درد کو حالات نے سمجھا بھی نہیں

    کب تلک چلنا پڑے گا ہمیں تنہا تنہا

    اب کسی موڑ پہ مل جائیں گے ایسا بھی نہیں

    روبرو ان کے مرے ہونٹ نہ کھلنے پائے

    دل کو اظہار تمنا کا سہارا بھی نہیں

    جانے کیا سوچ کے اس نے مجھے دیوانہ کہا

    ہائے اس کو ابھی محفل پہ بھروسہ بھی نہیں

    رابطے جوڑنے نکلا تھا میں انساں کے خیالؔ

    کسی انساں نے مجھے پیار سے دیکھا بھی نہیں

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites