ایک نازک دل کے اندر حشر برپا کر دیا

سرسوتی سرن کیف

ایک نازک دل کے اندر حشر برپا کر دیا

سرسوتی سرن کیف

MORE BY سرسوتی سرن کیف

    ایک نازک دل کے اندر حشر برپا کر دیا

    ہائے ہم نے کیوں یہ اظہار تمنا کر دیا

    اب نہیں ہے خشک آنکھوں میں سوا وحشت کے کچھ

    انتہائے غم نے کیا دریا کو صحرا کر دیا

    ان کے در کو چھوڑ کر در در بھٹکتے ہم رہے

    وحشت دل نے عجب انجام الٹا کر دیا

    وسوسے امید کے دم سے جو تھے سب مٹ گئے

    انتہائے درد نے غم کا مداوا کر دیا

    لب پہ لکنت آنکھوں میں وحشت ہے چہرہ زرد ہے

    اشتیاق حور نے زاہد کو کیسا کر دیا

    گو نہیں امید اس سے تھی عنایت کی مگر

    یہ تھا فرض عاشقی ہم نے تقاضا کر دیا

    اک نزاع مستقل رہتی ہے عقل و شوق میں

    ترک الفت نے تو اب دشوار جینا کر دیا

    دل تو تھا اک قطرۂ خوں کیا حقیقت اس کی تھی

    تیرے غم نے قلزم ذخار جیسا کر دیا

    افترا و مکر سے شاید تجھے ملتا وقار

    حق پرستی نے تجھے اے کیفؔ رسوا کر دیا

    مآخذ:

    • کتاب : Kaif Kaavy (Pg. 6)
    • Author : Sarsvati Saran kaif
    • مطبع : Kaka Prakashan (2007)
    • اشاعت : 2007

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY