ایک قطرہ اشک کا چھلکا تو دریا کر دیا

عادل منصوری

ایک قطرہ اشک کا چھلکا تو دریا کر دیا

عادل منصوری

MORE BYعادل منصوری

    ایک قطرہ اشک کا چھلکا تو دریا کر دیا

    ایک مشت خاک جو بکھری تو صحرا کر دیا

    میرے ٹوٹے حوصلے کے پر نکلتے دیکھ کر

    اس نے دیواروں کو اپنی اور اونچا کر دیا

    واردات قلب لکھی ہم نے فرضی نام سے

    اور ہاتھوں ہاتھ اس کو خود ہی لے جا کر دیا

    اس کی ناراضی کا سورج جب سوا نیزے پہ تھا

    اپنے حرف عجز ہی نے سر پہ سایہ کر دیا

    دنیا بھر کی خاک کوئی چھانتا پھرتا ہے اب

    آپ نے در سے اٹھا کر کیسا رسوا کر دیا

    اب نہ کوئی خوف دل میں اور نہ آنکھوں میں امید

    تو نے مرگ ناگہاں بیمار اچھا کر دیا

    بھول جا یہ کل ترے نقش قدم تھے چاند پر

    دیکھ ان ہاتھوں کو کس نے آج کاسہ کر دیا

    ہم تو کہنے جا رہے تھے ہمزۂ یے والسلام

    بیچ میں اس نے اچانک نون غنہ کر دیا

    ہم کو گالی کے لیے بھی لب ہلا سکتے نہیں

    غیر کو بوسہ دیا تو منہ سے دکھلا کر دیا

    تیرگی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے آخر میاں

    سرخ پرچم کو جلا کر ہی اجالا کر دیا

    بزم میں اہل سخن تقطیع فرماتے رہے

    اور ہم نے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا

    جانے کس کے منتظر بیٹھے ہیں جھاڑو پھیر کر

    دل سے ہر خواہش کو عادلؔ ہم نے چلتا کر دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY