ایک رات آپ نے امید پہ کیا رکھا ہے

شاذ تمکنت

ایک رات آپ نے امید پہ کیا رکھا ہے

شاذ تمکنت

MORE BYشاذ تمکنت

    ایک رات آپ نے امید پہ کیا رکھا ہے

    آج تک ہم نے چراغوں کو جلا رکھا ہے

    سوسن و نسترن و سنبل و ریحان و گلاب

    تیری یادوں کو گلستاں میں چھپا رکھا ہے

    وجہ آوارگئ عشق فسردہ معلوم

    نگہ ناز کو پردہ سا بنا رکھا ہے

    درد دولت ہی سہی پہلوئے راحت ہی سہی

    کچھ دنوں عشق نے بھی خود کو بچا رکھا ہے

    لے اڑے اہل جنوں حسن کی اک ایک ادا

    خلوت و بزم میں اب فرق ہی کیا رکھا ہے

    ہائے خوشبو سے ترے درد کی نسبت نہ گئی

    میں نے ہر پھول کو سینے سے لگا رکھا ہے

    آج تو شکوۂ محرومیٔ دیدار نہیں

    ہم نے کل کے لیے اس غم کو اٹھا رکھا ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e- Shaz Tamkanat (Pg. 125)
    • Author : Shaz Tamkanat
    • مطبع : Educational Publishing House, Delhi (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY