ایک سے سلسلے ہیں سب ہجر کی رت بتا گئی

پیرزادہ قاسم

ایک سے سلسلے ہیں سب ہجر کی رت بتا گئی

پیرزادہ قاسم

MORE BYپیرزادہ قاسم

    ایک سے سلسلے ہیں سب ہجر کی رت بتا گئی

    پھر وہی صبح آئے گی پھر وہی شام آ گئی

    میرے لہو میں جل اٹھے اتنے ہی تازہ دم چراغ

    وقت کی سازشی ہوا جتنے دیے بجھا گئی

    میں بھی بہ پاس دوستاں اپنے خلاف ہو گیا

    اب یہی رسم دوستی مجھ کو بھی راس آ گئی

    تند ہوا کے جشن میں لوگ گئے تو تھے مگر

    تن سے کوئی قبا چھنی سر سے کوئی ردا گئی

    دل زدگاں کے قافلے دور نکل چکے تمام

    ان کی تلاش میں نگاہ اب جو گئی تو کیا گئی

    آخر شب کی داستاں اور کریں بھی کیا بیاں

    ایک ہی آہ سرد تھی سارے دیے بجھا گئی

    مآخذ :
    • کتاب : Junoon (Pg. 199)
    • Author : Naseem Muqri
    • مطبع : Naseem Muqri (1990)
    • اشاعت : 1990

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY