ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے

عمیر نجمی

ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے

عمیر نجمی

MORE BYعمیر نجمی

    ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے

    جیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ ملے

    رنگ اکھڑ جائے تو ظاہر ہو پلستر کی نمی

    قہقہہ کھود کے دیکھو تو تمہیں آہ ملے

    جمع تھے رات مرے گھر ترے ٹھکرائے ہوئے

    ایک درگاہ پہ سب راندۂ درگاہ ملے

    میں تو اک عام سپاہی تھا حفاظت کے لئے

    شاہ زادی یہ ترا حق تھا تجھے شاہ ملے

    ایک اداسی کے جزیرے پہ ہوں اشکوں میں گھرا

    میں نکل جاؤں اگر خشک گزر گاہ ملے

    اک ملاقات کے ٹلنے کی خبر ایسے لگی

    جیسے مزدور کو ہڑتال کی افواہ ملے

    گھر پہنچنے کی نہ جلدی نہ تمنا ہے کوئی

    جس نے ملنا ہو مجھے آئے سر راہ ملے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY