ایک تلوار ہے تلوار بھی دو دھاری ہے

خالد ملک ساحل

ایک تلوار ہے تلوار بھی دو دھاری ہے

خالد ملک ساحل

MORE BYخالد ملک ساحل

    ایک تلوار ہے تلوار بھی دو دھاری ہے

    زندگی پھول ہے پتھر سے مگر بھاری ہے

    ایک عادت سی ہے بیزار طبیعت رہنا

    ورنہ اس وقت کہاں کوئی بھی بے زاری ہے

    سرفروشی کا مزہ ہے نہ خطا پوشی کا

    دشمن جان بھی جذبات سے اب عاری ہے

    آؤ سنسار کی قیمت میں لگائیں بولی

    لوگ کہتے ہیں کہ انسان میں ناداری ہے

    جانے کس سوچ کے لمحے نے چھوا ہے تجھ کو

    اک عجب کیف مری روح پہ بھی طاری ہے

    تشنہ تشنہ سے بدن میں ہے شرابی نشہ

    چشمۂ فیض تری آنکھ سے پھر جاری ہے

    مأخذ :
    • کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 554)
    • مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY