ایک طریقہ یہ بھی ہے جب جینا اک ناچاری ہو

عرفان صدیقی

ایک طریقہ یہ بھی ہے جب جینا اک ناچاری ہو

عرفان صدیقی

MORE BYعرفان صدیقی

    ایک طریقہ یہ بھی ہے جب جینا اک ناچاری ہو

    ہاتھ بندھے ہوں سینے پر دل بیعت سے انکاری ہو

    جشن ظفر ایک اور سفر کی ساعت کا دیباچہ ہے

    خیمۂ شب میں رقص بھی ہو اور کوچ کی بھی تیاری ہو

    اس سے کم پر رم خوردوں کا کون تعاقب کرتا ہے

    یا بانوئے کوئے اودھ ہو یا آہوئے تتاری ہو

    دائم ہے سلطانی ہم شہزادوں خاک نہادوں کی

    برق و شرر کی مسند ہو یا تخت باد بہاری ہو

    ہم تو رات کا مطلب سمجھیں خواب، ستارے، چاند، چراغ

    آگے کا احوال وہ جانے جس نے رات گزاری ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY