ایک تو تری دولت تھا ہی دل یہ سودائی (ردیف .. ')

شیخ ظہور الدین حاتم

ایک تو تری دولت تھا ہی دل یہ سودائی (ردیف .. ')

شیخ ظہور الدین حاتم

MORE BYشیخ ظہور الدین حاتم

    ایک تو تری دولت تھا ہی دل یہ سودائی

    تس اوپر قیامت ہے بے کسی و تنہائی

    تیرے تئیں تو لازم تھا توبہ کا سبب پوچھے

    مے کشی سے اے ساقی گو کہ ہم قسم کھائی

    دل تو ایچ پیچوں سے دام خط کے چھوٹا تھا

    زلف پھر نئے سر سے سر اوپر بلا لائی

    جی تو بے قراری سے جاں بہ لب ہے اے ناصح

    کو تحمل و طاقت صبر اور شکیبائی

    عمر عاشق و معشوق صرف ناز و حیرت ہے

    حسن ہے ادا پرداز عشق ہے تماشائی

    رات اس کی محفل میں سر سے جل کے پاؤں تک

    شمع کی پگھل چربی استخواں نکل آئی

    حسب حال حاتمؔ ہے شعر میرزا مظہرؔ

    اس سے پھر زیادہ کچھ ہے عبارت آرائی

    ''دل ہمیشہ می خواہد طوف کوئے جاناں را

    ہائے بے پر و بالی وائے ناتوانی''

    مآخذ:

    • کتاب : Diwan-e-Zadah (Pg. 362)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY