ایک زہریلی رفاقت کے سوا ہے اور کیا

عرفان احمد

ایک زہریلی رفاقت کے سوا ہے اور کیا

عرفان احمد

MORE BY عرفان احمد

    ایک زہریلی رفاقت کے سوا ہے اور کیا

    تیرے میرے بیچ وحشت کے سوا ہے اور کیا

    اب نہ ہے وہ نرم لہجہ اور نہ ہیں وہ قہقہے

    تیرا ملنا اک اذیت کے سوا ہے اور کیا

    زعم تھا مجھ کو بھی تیری چاہتوں کا لیکن اب

    میرے چہرے پر ندامت کے سوا ہے اور کیا

    ایک زہر آمیز چپ ہے اور آنکھوں میں جلن

    تیرے دل میں اب کدورت کے سوا ہے اور کیا

    زخم جو تو نے دیے تجھ کو دکھا تو دوں مگر

    پاس تیرے بھی نصیحت کے سوا ہے اور کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY