اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہے

کیف بھوپالی

اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہے

کیف بھوپالی

MORE BYکیف بھوپالی

    اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہے

    غالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہے

    وائے عاشق ناداں کائنات یہ تیری

    اک شکستہ شیشے کو دل بنائے بیٹھا ہے

    طالبان دید ان کے دھوپ دھوپ پھرتے ہیں

    غیر ان کے کوچے میں سائے سائے بیٹھا ہے

    اس طرف بھی اے صاحب التفات یک مژگاں

    اک غریب محفل میں سر جھکائے بیٹھا ہے

    دور باش اے گلچیں وا ہے دیدۂ نرگس

    آج ہر گل نازک خار کھائے بیٹھا ہے

    کیوں سنا نہیں دیتا فیصلہ مقدر کا

    نامہ بر مرے آگے خط چھپائے بیٹھا ہے

    صبح کی ہوا ان سے صرف اتنا کہہ دینا

    کوئی شمع کی اب تک لو بڑھائے بیٹھا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے