فیضؔ اور فیضؔ کا غم بھولنے والا ہے کہیں

حبیب جالب

فیضؔ اور فیضؔ کا غم بھولنے والا ہے کہیں

حبیب جالب

MORE BYحبیب جالب

    دلچسپ معلومات

    بیاد فیض

    فیضؔ اور فیضؔ کا غم بھولنے والا ہے کہیں

    موت یہ تیرا ستم بھولنے والا ہے کہیں

    ہم سے جس وقت نے وہ شاہ سخن چھین لیا

    ہم کو وہ وقت الم بھولنے والا ہے کہیں

    ترے اشک اور بھی چمکائیں گی یادیں اس کی

    ہم کو وہ دیدۂ نم بھولنے والا ہے کہیں

    کبھی زنداں میں کبھی دور وطن سے اے دوست

    جو کیا اس نے رقم بھولنے والا ہے کہیں

    آخری بار اسے دیکھ نہ پائے جالبؔ

    یہ مقدر کا ستم بھولنے والا ہے کہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے