فلاح آدمیت میں صعوبت سہہ کے مر جانا

گلزار دہلوی

فلاح آدمیت میں صعوبت سہہ کے مر جانا

گلزار دہلوی

MORE BY گلزار دہلوی

    فلاح آدمیت میں صعوبت سہہ کے مر جانا

    یہی ہے کام کر جانا یہی ہے نام کر جانا

    جہاں انسانیت وحشت کے ہاتھوں ذبح ہوتی ہو

    جہاں تذلیل ہے جینا وہاں بہتر ہے مر جانا

    یوں ہی دیر و حرم کی ٹھوکریں کھاتے پھرے برسوں

    تری ٹھوکر سے لکھا تھا مقدر کا سنور جانا

    سکون روح ملتا ہے زمانہ کو ترے در سے

    بہشت و خلد کے مانند ہم نے تیرا در جانا

    ہماری سادہ لوحی تھی خدا بخشے کہ خوش فہمی

    کہ ہر انسان کی صورت کو ما فوق البشر جانا

    یہ ہے رندوں پہ رحمت روز محشر خود مشیت نے

    لکھا ہے آب کوثر سے نکھر جانا سنور جانا

    چمن میں اس قدر سہمے ہوئے ہیں آشیاں والے

    کہ جگنو کی چمک کو سازش برق و شرر جانا

    ہمیں خار وطن گلزارؔ پیارے ہیں گل تر سے

    کہ ہر ذرے کو خاک ہند کے شمس و قمر جانا

    مآخذ:

    • کتاب : Aazadi ke baad dehli men urdu gazal (Pg. 304)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY