فلک بنایا گیا ہے زمیں بنائی گئی

نبیل احمد نبیل

فلک بنایا گیا ہے زمیں بنائی گئی

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    فلک بنایا گیا ہے زمیں بنائی گئی

    اماں کی کوئی جگہ ہی نہیں بنائی گئی

    نکلتی کس طرح کوئی یقین کی صورت

    یقین کی کوئی صورت نہیں بنائی گئی

    چلیں گے ہم بھی محبت نگر سمجھ کے اسے

    گر ایسی کوئی بھی بستی کہیں بنائی گئی

    بجھے بجھے ہوئے منظر وہ جس مقام کے تھے

    ہمارے رہنے کی صورت وہیں بنائی گئی

    جب اس کو غور سے دیکھا تو آنکھ بھر آئی

    سمجھ رہا تھا میں دنیا حسیں بنائی گئی

    کسک سجائی گئی اس میں پہلے سجدوں کی

    پھر اس کے بعد ہماری جبیں بنائی گئی

    نبیلؔ اتارا گیا مجھ کو آسمان سے یوں

    فسردہ خاک مری ہم نشیں بنائی گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY