فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا

محسن نقوی

فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا

    بجھتا ہوا دیا نہ مقابل ہوا کے لا

    دریا کا انتقام ڈبو دے نہ گھر ترا

    ساحل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا

    اب اختتام کو ہے سخی حرف التماس

    کچھ ہے تو اب وہ سامنے دست دعا کے لا

    پیماں وفا کے باندھ مگر سوچ سوچ کر

    اس ابتدا میں یوں نہ سخن انتہا کے لا

    آرائش جراحت یاراں کی بزم ہے

    جو زخم دل میں ہیں سبھی تن پر سجا کے لا

    تھوڑی سی اور موج میں آ اے ہوائے گل

    تھوڑی سی اس کے جسم کی خوشبو چرا کے لا

    گر سوچنا ہیں اہل مشیت کے حوصلے

    میداں سے گھر میں ایک تو میت اٹھا کے لا

    محسنؔ اب اس کا نام ہے سب کی زبان پر

    کس نے کہا کہ اس کو غزل میں سجا کے لا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY