فقط دیوار کا در کا تحفظ

مسعود حساس

فقط دیوار کا در کا تحفظ

مسعود حساس

MORE BYمسعود حساس

    فقط دیوار کا در کا تحفظ

    ہو اس سے کیا مرے گھر کا تحفظ

    ہماری ذات ہے بار گراں کب

    مگر اک مسئلہ سر کا تحفظ

    علی کی ذات کا یہ فلسفہ ہے

    عبادت ہے پیمبر کا تحفظ

    ہیں آنکھیں آئنہ دل کا یقیناً

    ہوا دوبھر کھلے گھر کا تحفظ

    یہ شان رب نہیں تو اور کیا ہے

    کریں کانٹے گل تر کا تحفظ

    دفاع نفس میں یہ گھومتا ہے

    بھنور سے ہے سمندر کا تحفظ

    ہواؤں کی نظر اس بات پر ہے

    کہ ہو کیسے بونڈر کا تحفظ

    میاں حساسؔ کیوں ہو ضد پہ مائل

    کوئی کرتا ہے کیا شر کا تحفظ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY