فقط شور دل پر آرزو تھا

شاد عظیم آبادی

فقط شور دل پر آرزو تھا

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    فقط شور دل پر آرزو تھا

    نہ اپنے جسم میں ہم تھے نہ تو تھا

    ہر اک کے پاؤں پر جھکتے کٹی عمر

    نہ سمجھے ہم کہ کس قالب میں تو تھا

    جہاں پہنچے اسی کا نور پایا

    جدھر دیکھا وہی خورشید رو تھا

    جگہ دامن میں اپنے کیوں نہ دیتے

    کہ طفل اشک اپنا ہی لہو تھا

    کہوں کیا دل کی میں نازک مزاجی

    خدا بخشے نہایت تند خو تھا

    میں کیفیت کہوں کیا بزم مے کی

    کہ مینا ہاتھ میں آنکھوں میں تو تھا

    غش آیا اس نے تولی تیغ جب جب

    عجب ہلکا ہمارا بھی لہو تھا

    بہت ڈھونڈا کہیں پایا نہ ہم نے

    بتا دے یہ کہ کس گوشے میں تو تھا

    بچا قاتل کا دامن للہ الحمد

    بہت کھولا ہوا اپنا لہو تھا

    عدو تھے ساقیا سب مے کدے میں

    یہی اک آس تھی پلے پہ تو تھا

    لباس کہنہ جب تھا اپنا صدچاک

    تو پھر بے کار پیوند و رفو تھا

    غضب میں آ کے تجھ کو توڑتا شیخ

    نتیجہ بحث کا کیا اے سبو تھا

    تری تصویر تھے ہم بھی کسی وقت

    یہی نقشا ہمارا ہو بہو تھا

    نظر میں ہیچ تھا کونین ساقی

    لبالب جام تھا ہم تھے سبو تھا

    سزا لغزش کی پاتے بزم میں ہم

    خدا کو خیر کرنا تھا کہ تو تھا

    ہم اپنے ہوش میں باقی تھے ہر طرح

    مگر جب تو ہمارے روبرو تھا

    تجھی سے منہ پھلا لیتے عجب کیا

    صبا غنچوں کا بھی آخر نمو تھا

    چلے ہم باغ سے اے شادؔ کس وقت

    بہار آنے کو تھی گل کا نمو تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY