فقیری میں یہ تھوڑی سی تن آسانی بھی کرتے ہیں

عرفان صدیقی

فقیری میں یہ تھوڑی سی تن آسانی بھی کرتے ہیں

عرفان صدیقی

MORE BY عرفان صدیقی

    فقیری میں یہ تھوڑی سی تن آسانی بھی کرتے ہیں

    کہ ہم دست کرم دنیا پہ ارزانی بھی کرتے ہیں

    در روحانیاں کی چاکری بھی کام ہے اپنا

    بتوں کی مملکت میں کار سلطانی بھی کرتے ہیں

    جنوں والوں کی یہ شائستگی طرفہ تماشا ہے

    رفو بھی چاہتے ہیں چاک دامانی بھی کرتے ہیں

    مجھے کچھ شوق نظارہ بھی ہے پھولوں کے چہروں کا

    مگر کچھ پھول چہرے میری نگرانی بھی کرتے ہیں

    جو سچ پوچھو تو ضبط آرزو سے کچھ نہیں ہوتا

    پرندے میرے سینے میں پر افشانی بھی کرتے ہیں

    ہمارے دل کو اک آزار ہے ایسا نہیں لگتا

    کہ ہم دفتر بھی جاتے ہیں غزل خوانی بھی کرتے ہیں

    بہت نوحہ گری کرتے ہیں دل کے ٹوٹ جانے کی

    کبھی آپ اپنی چیزوں کی نگہبانی بھی کرتے ہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    فقیری میں یہ تھوڑی سی تن آسانی بھی کرتے ہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY