فریب نکہت و گلزار سے بچاؤ مجھے

علی احمد جلیلی

فریب نکہت و گلزار سے بچاؤ مجھے

علی احمد جلیلی

MORE BYعلی احمد جلیلی

    فریب نکہت و گلزار سے بچاؤ مجھے

    کرم کرو کسی صحرا میں چھوڑ آؤ مجھے

    وہ جنس ہوں میں جسے بک کے مدتیں گزریں

    جو ہو سکے تو کہیں سے خرید لاؤ مجھے

    مچل رہی ہے نظر چھو کے دیکھیے اس کو

    سمٹ رہا ہے بدن ہاتھ مت لگاؤ مجھے

    کسی طرح ان اندھیروں کی عمر تو کم ہو

    جلانے والو ذرا دیر تک جلاؤ مجھے

    کسی پہ اپنے سوا اب نظر نہیں پڑتی

    مری نگاہ سے اے دوستو بچاؤ مجھے

    یہ کس کی لاش لیے جاتے ہو اٹھائے ہوئے

    کہیں وہ میں تو نہیں ہوں ذرا دکھاؤ مجھے

    بکھر چکا ہوں علیؔ میں غزل کے شعروں میں

    بساط عارض و لب سے سمیٹ لاؤ مجھے

    مأخذ :
    • کتاب : Karwaan-e-Ghazal (Pg. 268)
    • Author : Farooq Argali
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY