فرشتے دھیان لگائے اترنے لگتے ہیں

رشمی صبا

فرشتے دھیان لگائے اترنے لگتے ہیں

رشمی صبا

MORE BY رشمی صبا

    فرشتے دھیان لگائے اترنے لگتے ہیں

    جو ساتھ تم ہو تو لمحے سنورنے لگتے ہیں

    وہ ایک یاد کی دستک جو دل پہ ہوتی ہے

    مرے خزانے کے موتی بکھرنے لگتے ہیں

    اس اک نگاہ کی تاثیر یوں سمجھ لیجے

    ہم اپنے آپ سے ملنے میں ڈرنے لگتے ہیں

    یہ آئنے کے علاوہ صفت کسی میں نہیں

    سنورنے والے سراپا بکھرنے لگتے ہیں

    سجانی ہوتی ہے جس رات چاند کو محفل

    ستارے شام سے چھت پر اترنے لگتے ہیں

    دکھائی دے تو لپٹ جاؤں اس صدا سے میں

    کہ جس کو سن کے صباؔ پھول جھرنے لگتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY