فرشتے امتحان بندگی میں ہم سے کم نکلے

ضیا فتح آبادی

فرشتے امتحان بندگی میں ہم سے کم نکلے

ضیا فتح آبادی

MORE BYضیا فتح آبادی

    دلچسپ معلومات

    (مدراس 1957ء)

    فرشتے امتحان بندگی میں ہم سے کم نکلے

    مگر اک جرم کی پاداش میں جنت سے ہم نکلے

    غم‌ دنیا و دیں ان کو نہ فکر نیک و بد ان کو

    محبت کرنے والے بے نیاز بیش و کم نکلے

    غرض کعبہ سے تھی جن کو نہ تھا مطلب کلیسا سے

    حد دیر و حرم سے بھی وہ آگے دو قدم نکلے

    سحر کی منزل روشن پہ جا پہنچے وہ دیوانے

    شب تاریک میں جو نور کا لے کر علم نکلے

    مہ و خورشید بن کر آسمانوں پر ہوئے روشن

    دو آنسو وہ مری آنکھوں سے جو شام الم نکلے

    سکوت شب میں ہم نے ایک رنگیں خواب دیکھا تھا

    مسرت جاوداں ہوگی اگر تعبیر غم نکلے

    نہ ملتی ہوں شراب زندگی کی تلخیاں جن میں

    سنا ہے وہ ضیاؔ کے دل سے ایسے شعر کم نکلے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY