فریاد کی کوئی لے نہیں ہے

مرزا غالب

فریاد کی کوئی لے نہیں ہے

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    فریاد کی کوئی لے نہیں ہے

    نالہ پابند نے نہیں ہے

    کیوں بوتے ہیں باغبان تونبے

    گر باغ گدائے مے نہیں ہے

    ہر چند ہر ایک شے میں تو ہے

    پر تجھ سی کوئی شے نہیں ہے

    ہاں کھائیو مت فریب ہستی

    ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے

    شادی سے گزر کہ غم نہ ہووے

    اردی جو نہ ہو تو دے نہیں ہے

    کیوں رد قدح کرے ہے زاہد

    مے ہے یہ مگس کی قے نہیں ہے

    ہستی ہے نہ کچھ عدم ہے غالبؔ

    آخر تو کیا ہے اے نہیں ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    فریاد کی کوئی لے نہیں ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے