فرط کاہش کی عنایات سے پنہاں ہو کر
فرط کاہش کی عنایات سے پنہاں ہو کر
یار کے دل میں رہا کرتا ہوں ارماں ہو کر
وصل کی شب میں رگ کاکل پیچاں ہو کر
ان کی گردن سے لپٹتا ہوں گریباں ہو کر
زلف کی یاد شب ہجر میں افسوس افسوس
جی ڈراتی ہے مرا افعیٔ پیچاں ہو کر
کوئی کہتا ہے جو اچھی تو سمجھتا ہوں بری
جوش الفت سے مزاج بت ناداں ہو کر
ساقیا محفل زنداں میں عروس بادہ
بر میں ساغر کے رہا کرتی ہے جاناں ہو کر
بھر دیا اشک گہر زا سے ہمارا دامن
شب غم میں صدف چشم نے نیساں ہو کر
جوشش عشق یہ دیکھو کہ دل دلبر میں
آیا غصے کی طرح نکلا میں ارماں ہو کر
کار منصور کا فرقت میں دکھاتے ہیں تجھے
دار مژگاں پہ مرے اشک نمایاں ہو کر
پرورش سایۂ گردن نے کیا ہے ہم کو
مدتوں تک رہے پیوند گریباں ہو کر
جوش پر آتی ہے جس وقت کہ بیتابیٔ دل
اٹھ کھڑا ہوتا ہوں تعظیم بیاباں ہو کر
تا دم زیست رہا یار پری رو تسخیر
حرف خاتم ہوئے ہم نقش سلیماں ہو کر
خاک ہونے پہ رہا عاشق و معشوق سے ربط
گور بلبل بنی آغوش گلستاں ہو کر
دخت رز لیلیٰ کے مانند حیا کرتی ہے
محمل شیشہ میں ہر طرح سے پنہاں ہو کر
مہربانی صفت اشک کیا کرتے ہیں
اے شگفتہؔ وہ مری گود میں شاداں ہو کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.