فصل بہار آئی ہے پیمانہ چاہئے

منیرؔ  شکوہ آبادی

فصل بہار آئی ہے پیمانہ چاہئے

منیرؔ  شکوہ آبادی

MORE BYمنیرؔ  شکوہ آبادی

    فصل بہار آئی ہے پیمانہ چاہئے

    بلبل کے ساتھ نعرۂ مستانہ چاہئے

    عشاق شمع حسن کو کیا کیا نہ چاہئے

    پرواز رنگ کو پر پروانہ چاہئے

    پیری میں رات دن ہمیں پیمانہ چاہئے

    رعشہ کے بدلے لغزش مستانہ چاہئے

    وحشت میں بات عقل کی سننا نہ چاہئے

    کانوں میں پنبۂ کف دیوانہ چاہئے

    کنگھی بناؤں چوب عصائے کلیم کی

    تسخیر مار گیسوئے جانانہ چاہئے

    دریائے وحدت و چمن دہر سے ہمیں

    در یگانہ سبزۂ بیگانہ چاہئے

    آب و غذائے عاشق دنداں محال ہے

    روز آب و دانۂ در یکدانہ چاہئے

    میں سائل کمال جنوں ہوں مرے لئے

    کجکول کاسۂ سر دیوانہ چاہئے

    اسرار حق ہیں دل میں مگر دل ہے بے خبر

    اس گنج کے لئے یہی ویرانہ چاہئے

    سیر بہشت چاہتے ہیں نشہ میں مدام

    مستوں کو چشم حور کا پیمانہ چاہئے

    گو بے نقاب رہتے ہو پردے میں ہے حجاب

    در پردہ ہم سے آپ کو چھپنا نہ چاہئے

    عاشق بنا کے ہم کو جلاتے ہیں شمع رو

    پروانہ چاہئے انہیں پروانہ چاہئے

    اے پیر مے فروش در توبہ کی طرح

    وا روز حشر تک در مے خانہ چاہئے

    تا مرگ آشنا نہ ہوا ایک سبزہ رنگ

    تربت پر اپنی سبزۂ بیگانہ چاہئے

    دشمن ہے وہ تو تم بھی نہ ہو دوست اے منیرؔ

    اپنا برا نہ چاہئے اچھا نہ چاہئے

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY