فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہے

شیخ علی بخش بیمار

فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہے

شیخ علی بخش بیمار

MORE BYشیخ علی بخش بیمار

    فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہے

    بلبل نغمہ سرا رو رو بقضا آتی ہے

    دل دھڑکتا ہے یہ کہتے ہوئے اس محفل میں

    یاں کسی کو خفقاں کی بھی دوا آتی ہے

    آج وہ شوخ ہے اور کثرت آرائش ہے

    دیکھ کس واسطے پسنے کو حنا آتی ہے

    کیا کھلے باغ میں وہ چشم حجاب آلودہ

    آنکھ اٹھاتے ہوئے نرگس کو حیا آتی ہے

    جاں کنی حسن پرستوں کو گراں کیا گزرے

    بھیس میں حور بہشتی کے قضا آتی ہے

    اس لیے رشک چمن باغ میں گل ہنستے ہیں

    کہ اڑاتی تری رفتار صبا آتی ہے

    مرض عشق سے بیمارؔ جو گھبراتا ہے

    یار کہتا ہے مجھے خوب دوا آتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY