فوج مژگاں کا کچھ ارادہ ہے

منیرؔ  شکوہ آبادی

فوج مژگاں کا کچھ ارادہ ہے

منیرؔ  شکوہ آبادی

MORE BYمنیرؔ  شکوہ آبادی

    فوج مژگاں کا کچھ ارادہ ہے

    زلف پیچاں نے لام باندھا ہے

    لب رنگیں کو کس نے چوسا ہے

    دیکھ لو یہ عقیق جھوٹا ہے

    کون آیا چھڑی سواری سے

    نے سواری کا کس کی شہرا ہے

    دانت کھٹے ہوئے اناروں کے

    ان کا سیب ذقن یہ میٹھا ہے

    بوسۂ لب دیا جو بگڑے غیر

    پھوٹ میں تم نے قند ڈالا ہے

    کاٹتے ہو ہمارے نام کے حرف

    خوب شوشہ ہے زور فقرا ہے

    وصف قد کے دو چند ہیں مضموں

    کوئی مصرع نہیں ہے دہرا ہے

    دانت کنگھی کا ہے مگر مجھ پر

    مار گیسو جو کاٹے کھاتا ہے

    خوب ہے وصل عاشق و معشوق

    یہ بھی جوڑی کا ایک نسخہ ہے

    زخم دل پر نمک چھڑکواؤ

    ذائقہ میرے منہ کا پھیکا ہے

    غیر کے گھر بجا رہے ہو ستار

    تم نے در پردہ ٹھاٹ بدلا ہے

    کوئی تازہ کنواں جھکائیں گے

    ان دنوں اختلاط گہرا ہے

    چٹکی انگیا میں تم نہ ٹکواؤ

    گورے سینہ میں نیل پڑتا ہے

    بوسہ ہونٹوں کا مل گیا کس کو

    دل میں کچھ آج درد میٹھا ہے

    چین سے ہیں فقیر بعد فنا

    قبر کے بھی سرہانے تکیہ ہے

    اے منیرؔ آپ کیوں ہیں آزردہ

    یہ تو کہئے مزاج کیسا ہے

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY