فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا

محسن نقوی

فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا

    بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا

    یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے

    مری زباں کو زر التماس کیا دے گا

    جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر

    وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا

    یہ شہر یوں بھی تو دہشت بھرا نگر ہے یہاں

    دلوں کا شور ہوا کو ہراس کیا دے گا

    وہ زخم دے کے مجھے حوصلہ بھی دیتا ہے

    اب اس سے بڑھ کے طبیعت شناس کیا دے گا

    جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک

    وہ پتھروں کو متاع حواس کیا دے گا

    وہ میرے اشک بجھائے گا کس طرح محسنؔ

    سمندروں کو وہ صحرا کی پیاس کیا دے گا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY