فکر رنج و راحت کیسی

وزیر علی صبا لکھنؤی

فکر رنج و راحت کیسی

وزیر علی صبا لکھنؤی

MORE BYوزیر علی صبا لکھنؤی

    فکر رنج و راحت کیسی

    دوزخ کیسا جنت کیسی

    بدلی ان کی عادت کیسی

    الٹی اپنی قسمت کیسی

    ہر شے میں ہے اس کا جلوہ

    کثرت میں ہے وحدت کیسی

    آپس میں اے گبرو مسلماں

    ناحق ناحق حجت کیسی

    الفت میں ذلت رکھی ہے

    عزت کیسی حرمت کیسی

    زہد زاہد لا حاصل ہے

    بے گاری کو اجرت کیسی

    سن کر میری سینہ کوبی

    بولے وہ یہ نوبت کیسی

    چشم وحدت بیں کے آگے

    آئینے کی صورت کیسی

    مر جائیں گے ہم فرقت میں

    رہ جائے گی حسرت کیسی

    عالم ہے اے مہ رو تجھ پر

    شہروں میں ہے شہرت کیسی

    اٹھیں گے جب وہ صحبت سے

    برہم ہوگی صحبت کیسی

    بے خود ہو جا میری صورت

    اے صوفی یہ حالت کیسی

    دنیا کے جھگڑوں سے چھوٹے

    مر کر پائی فرصت کیسی

    زلفوں کے پھندوں سے نکلے

    ٹالی سر سے آفت کیسی

    فصل گل کے آتے آتے

    سو جاتی ہے وحشت کیسی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے