فرات فاصلہ سے دجلۂ دعا سے ادھر

ثروت حسین

فرات فاصلہ سے دجلۂ دعا سے ادھر

ثروت حسین

MORE BY ثروت حسین

    فرات فاصلہ سے دجلۂ دعا سے ادھر

    کوئی پکارتا ہے دشت نینوا سے ادھر

    کسی کی نیم نگاہی کا جل رہا ہے چراغ

    نگار خانۂ آغاز و انتہا سے ادھر

    میں آگ دیکھتا تھا آگ سے جدا کر کے

    بلا کا رنگ تھا رنگینیٔ قبا سے ادھر

    میں راکھ ہو گیا طاؤس رنگ کو چھو کر

    عجیب رقص تھا دیوار پیش پا سے ادھر

    زمین میرے لیے پھول لے کے آتی ہے

    بساط معرکۂ صبر آزما سے ادھر

    یہ میرے ہونٹ سمندر کو چوم سکتے ہیں

    حکایت شب افراد و آئینہ سے ادھر

    مآخذ:

    • کتاب : meyaar (Pg. 303)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY