غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیں

صبا اکبرآبادی

غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیں

صبا اکبرآبادی

MORE BYصبا اکبرآبادی

    غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیں

    تیری منزل میں کہیں نقش کف پا بھی نہیں

    آپ کی راہ میں دنیا نظر آتی ہے مجھے

    اک قدم اور جو بڑھ جاؤں تو دنیا بھی نہیں

    آپ کیا سوچ کے غم اپنا عطا کرتے ہیں

    ہمت دل تو بہ قدر غم دنیا بھی نہیں

    تم تو بے مثل ہو توحید محبت کی قسم

    تم سا کیا ہوگا جہاں میں کوئی مجھ سا بھی نہیں

    حشر کی بھیڑ میں ایک ایک کا منہ تکتا ہوں

    اس بھری بزم میں اک جاننے والا بھی نہیں

    حسن نے دعوت نظارہ ہر اک رنگ سے دی

    عشق نے آنکھ اٹھا کر کبھی دیکھا بھی نہیں

    ایک تم ہو کہ تمناؤں کے دشمن ہی رہے

    ایک میں ہوں مجھے احساس تمنا بھی نہیں

    جزو دل بن کے سماتی ہے محبت دل میں

    یہ وہ کانٹا ہے کہ ہے اور کھٹکتا بھی نہیں

    یاد آتی ہے صباؔ بے وطنوں کی کس کو

    مجھ کو یاران وطن سے کوئی شکوہ بھی نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 258)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY