گہرائیوں میں دل کی اترتا چلا گیا

شوق مرادابادی

گہرائیوں میں دل کی اترتا چلا گیا

شوق مرادابادی

MORE BYشوق مرادابادی

    گہرائیوں میں دل کی اترتا چلا گیا

    غم تا دم حیات نکھرتا چلا گیا

    یادوں کی وادیوں میں جہاں رکھ دئے قدم

    ہر نقش زندگی کا ابھرتا چلا گیا

    لطف و کرم کا دور بھی آیا تو اس طرح

    جھونکا ہوا کا جیسے گزرتا چلا گیا

    سن لی اگر کسی کی کبھی آہ دل خراش

    نشتر سا ایک دل میں اترتا چلا گیا

    آغاز عشق کی فقط اتنی سی یاد ہے

    آنکھوں سے کوئی دل میں اترتا چلا گیا

    ہم بھی راہ حیات میں چلتے رہے مگر

    سایہ سا جیسے کوئی گزرتا چلا گیا

    دیکھی نگاہ شوق میں جب غم کی داستاں

    انداز حسن اور نکھرتا چلا گیا

    وہ رفتہ رفتہ زندگی سے دور کیا ہوئے

    احساس زندگی کا بھی مرتا چلا گیا

    دنیائے التفات سمٹتی چلی گئی

    شیرازۂ حیات بکھرتا چلا گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY