غیب سے سحرا نوردوں کا مداوا ہو گیا

منشی امیر اللہ تسلیم

غیب سے سحرا نوردوں کا مداوا ہو گیا

منشی امیر اللہ تسلیم

MORE BYمنشی امیر اللہ تسلیم

    غیب سے سحرا نوردوں کا مداوا ہو گیا

    دامن دشت جنوں زخموں کا پھاہا ہو گیا

    موت آئی جی گئے چھٹ کر غم و اندوہ سے

    یہ نیا مرنا ہے جس کا نام جینا ہو گیا

    خود کو بھی دیکھا نہ آنکھیں کھول کر مثل حباب

    بحر ہستی میں فقط دم کا دمامہ ہو گیا

    یہ زمانہ وہ نہیں منہ سے نکالے حق کوئی

    یاد کر منصور پر کیا حشر برپا ہو گیا

    صورتیں کیا کیا نہ بدلیں میرے سوز عشق نے

    اشک آنکھوں میں بنا ہونٹوں پہ چھالا ہو گیا

    ناز سے چھاتی پر اس نے پاؤں جس دم رکھ دیا

    دل ہوا ٹھنڈا کلیجہ ہاتھ بھر کا ہو گیا

    ہم نے پالا مدتوں پہلو میں ہم کوئی نہیں

    تم نے دیکھا اک نظر سے دل تمہارا ہو گیا

    کہنے کو مجذوب ہم ہیں دل میں گویا اور ہے

    نیک و بد جو کچھ ہمارے منہ سے نکلا ہو گیا

    جب سے اے تسلیمؔ کی ہے بیعت دست سبو

    دین ساغر ہو گیا ایمان مینا ہو گیا

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Usne Chhedi(3) (Pg. 168)
    • Author : Farhat Ehsas
    • مطبع : Rekhta Books (2017)
    • اشاعت : 2017

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    speakNow