گلی کا منظر بدل رہا تھا

حماد نیازی

گلی کا منظر بدل رہا تھا

حماد نیازی

MORE BY حماد نیازی

    گلی کا منظر بدل رہا تھا

    قدیم سورج نکل رہا تھا

    ستارے حیران ہو رہے تھے

    چراغ مٹی میں جل رہا تھا

    دکھائی دینے لگی تھی خوشبو

    میں پھول آنکھوں پہ مل رہا تھا

    گھڑے میں تسبیح کرتا پانی

    وضو کی خاطر اچھل رہا تھا

    شفیق پوروں کا لمس پا کر

    بدن صحیفے میں ڈھل رہا تھا

    دعائیں کھڑکی سے جھانکتی تھیں

    میں اپنے گھر سے نکل رہا تھا

    ضعیف انگلی کو تھام کر میں

    بڑی سہولت سے چل رہا تھا

    عجیب حسرت سے دیکھتا ہوں

    میں جن مکانوں میں کل رہا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY