غم فراق مے و جام کا خیال آیا

شاد عظیم آبادی

غم فراق مے و جام کا خیال آیا

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    غم فراق مے و جام کا خیال آیا

    سفید بال لیے سر پہ اک وبال آیا

    ملے گا غیر بھی ان کے گلے بہ شوق اے دل

    حلال کرنے مجھے عید کا ہلال آیا

    اگر ہے دیدۂ روشن تو آفتاب کو دیکھ

    ادھر عروج ہوا اور ادھر زوال آیا

    لٹائے دیتے ہیں ان موتیوں کو دیدۂ شوق

    بھر آئے اشک کہ مفلس کے ہاتھ مال آیا

    لگی نسیم بہاری جو معرفت گانے

    گلوں پہ کچھ نہیں موقوف سب کو حال آیا

    پیام بر کو عبث دے کے خط ادھر بھیجا

    غریب اور وہاں سے شکستہ حال آیا

    خدا خدا کرو اے شادؔ اس پہ نخوت کیا

    جو شاعری تمہیں آئی تو کیا کمال آیا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    غم فراق مے و جام کا خیال آیا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY