غم کو ثبات ہے نہ خوشی کو قرار ہے

آسی رام نگری

غم کو ثبات ہے نہ خوشی کو قرار ہے

آسی رام نگری

MORE BYآسی رام نگری

    غم کو ثبات ہے نہ خوشی کو قرار ہے

    جو کل تھا خندہ ریز وہ آج اشک بار ہے

    کہتی ہے اوس پھول سے او بے خود نشاط

    روئے خزاں بھی زیر حجاب بہار ہے

    جب تک جلی جلا کی ہوا آئی بجھ گئی

    یہ زندگی بھی شمع سر رہ گزار ہے

    جس کا نفس کی آمد و شد پر مدار ہو

    ایسی حیات کا بھی کوئی اعتبار ہے

    اک میں ہی بد نصیب ہوں محروم‌ انبساط

    دنیا کے لب پہ ذکر بہاروں کا رہے

    اپنی بہار وقف خزاں ہو چکی تو ہو

    ہر سو جو شور آمد فصل بہار ہے

    آسیؔ طرب کدہ تھا کبھی یہ دل حزیں

    اے وائے آج حسرت و غم کا مزار ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Harf Harf Khowab (Pg. 77)
    • Author : asi ramnagari
    • مطبع : Nasim Pathara Po. Moghalsarai (Varansi) (1992)
    • اشاعت : 1992

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY