غم سے بھیگے ہوئے نغمات کہاں سے لاؤں

شیون بجنوری

غم سے بھیگے ہوئے نغمات کہاں سے لاؤں

شیون بجنوری

MORE BYشیون بجنوری

    غم سے بھیگے ہوئے نغمات کہاں سے لاؤں

    درد میں ڈوبی ہوئی بات کہاں سے لاؤں

    جن میں یادوں کو تری جھونک دوں جلنے کے لیے

    وہ سلگتے ہوئے دن رات کہاں سے لاؤں

    جو پسند آئے تجھے خون جگر کے بدلے

    سونے چاندی کی وہ سوغات کہاں سے لاؤں

    دل بھی تشنہ ہے مری روح بھی تشنہ ہے مگر

    تیرے جلووں کی وہ برسات کہاں سے لاؤں

    تیرے وعدے جو تجھے یاد دلائیں ظالم

    ہائے ماضی کے وہ لمحات کہاں سے لاؤں

    جب مرے بھاگ میں تنہائی کا اندھیارا ہے

    پھر بھلا پریم کی پربھات کہاں سے لاؤں

    دل مرا روتا ہے تنہائی میں پہروں شیونؔ

    وہ بزرگوں کی ہدایات کہاں سے لاؤں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    غم سے بھیگے ہوئے نغمات کہاں سے لاؤں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے