غمزۂ معشوق مشتاقوں کو دکھلاتی ہے تیغ

بیان میرٹھی

غمزۂ معشوق مشتاقوں کو دکھلاتی ہے تیغ

بیان میرٹھی

MORE BYبیان میرٹھی

    غمزۂ معشوق مشتاقوں کو دکھلاتی ہے تیغ

    صورت ابرو ہمارے سر چڑھی جاتی ہے تیغ

    ہوتے ہیں قرباں شہادت میں گلے مل کر شہید

    دوش قاتل پر ہلال عید بن جاتی ہے تیغ

    پست خم کھائے ہوئے لب خشک دم ڈوبا ہوا

    چلتے چلتے اب تو او ظالم تھکی جاتی ہے تیغ

    بے گناہی کا برا ہو زخم بے لذت ہوئے

    دست قاتل میں برنگ بید تھراتی ہے تیغ

    اس کی گردن پر مرا خوں اس کا احساں میرے سر

    اس سے جھک جاتا ہوں میں اور مجھ سے جھک جاتی ہے تیغ

    پار دریائے شہادت سے اتر جاتے ہیں سر

    کشتیٔ عشاق کی ملاح بن جاتی ہے تیغ

    خون گرماتا ہے جب پانی میں لہراتا ہوا

    مثل ماہی خوف کے مارے اچھل جاتی ہے تیغ

    ابروئے خوں خار قاتل کا کوئی پرساں نہیں

    اب نکلتی ہے کہیں تو قرق ہو جاتی ہے تیغ

    کب بجھے اس طرح ہے شوق شہادت کی یہ پیاس

    زخم کے منہ میں زباں بن کر نکل آتی ہے تیغ

    مرحبا جذب شہادت اس کا مغرب ہے گلو

    آپ منزل پر ہلال آسا پہنچ جاتی ہے تیغ

    تشنہ کامو گھاٹ سے اترے تو بیڑا پار ہے

    چشمۂ کوثر چھلکتا ہے کہ لہراتی ہے تیغ

    لڑتی ہے چھینٹے لب جو رنگ کیسا لال ہے

    مار کر پانی میں غوطہ خوں میں نہلاتی ہے تیغ

    زخم کاری نے کہیں منہ کھول کر کچھ کہہ دیا

    کیا ہوا قبضہ سے باہر کیوں ہوئی جاتی ہے تیغ

    جان سے عشاق جاتے ہیں گزر کٹتے ہیں غیر

    پل صراط امتحان عشق کہلاتی ہے تیغ

    آفتاب داغ سودا کی حرارت دیکھ کر

    چھاؤں میں دل تفتگان غم کو بٹھلاتی ہے تیغ

    مدعی در پردہ کٹ کٹ جاتے ہیں شکل نیام

    اے بیاںؔ میری زبان تیز کہلاتی ہے تیغ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY